ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاراشٹر میں2 دنوں میں قلمدانوں کی تقسیم کا امکان

مہاراشٹر میں2 دنوں میں قلمدانوں کی تقسیم کا امکان

Wed, 12 Jul 2023 12:21:45    S.O. News Service

ممبئی، 12/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)  این سی پی  کے2 ٹکڑے   ہونے اور اجیت پوار سمیت این سی پی  کے9 اراکین اسمبلی  کے ذریعے شندے  ۔فرنویس حکومت میں وزیر  بننے کا حلف لے کر ایک ہفتہ سے زیادہ (9 دن ) کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اب تک قلمدانوں کی تقسیم  عمل میں نہیں آئی ہے۔ یہاں تک کہ۱۷؍ جولائی سے مہاراشٹر اسمبلی کا مانسون اجلاس بھی شروع ہو رہا ہے لیکن اب تک ان وزیروں کو قلمدان تقسیم نہیں کئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں چہار جانب سے حکومت پر تنقیدیں بھی ہورہی ہیں۔

  ایسے حالات میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے ، نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے درمیان پیر کی دیر رات وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ ورشا  پر میٹنگ منعقد ہوئی۔ ذرائع کے مطابق یہ میٹنگ دیر رات تقریباً سوا2بجے تک جاری رہی جس میں ریاستی حکومت کو درپیش کئی اہم امور پر گفتگو ہوئی جس میں قلمدانوں کی تقسیم اور کابینہ میں توسیع کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس طویل میٹنگ سے متعلق یہ بتایا جارہا ہے کہ میٹنگ میں  یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئے وزراء میں قلمدانوں کی تقسیم  2دنوں میں ہو جائے گی البتہ کابینہ میں توسیع پر ابھی سسپنس برقرارہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ فرنویس واضح طور پر کچھ بھی کہنے سےبچ  رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ شندے سے طویل میٹنگ کےبعد پیر اور منگل کی درمیانی رات 2 بجکر 29 منٹ پر نائب وزیر اعلیٰ فرنویس اور اجیت پوار کی گاڑیاں ورشا بنگلے سے باہر نکلتی ہوئی دیکھی گئیں۔

  واضح رہے کہ اجیت پوار گروپ کے اچانک  برسراقتدار محاذ میںشامل ہوجانے سے یہ تصویر ابھی تک واضح نہیں ہے کہ دوسری کابینہ کی توسیع کب ہوگی۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ شندے نے کہا ہے کہ جلد ہی کابینہ کی توسیع کی جائے گی لیکن اس کے بارے میں ابھی تک غیر یقینی صورتحال ہے۔ 

  واضح رہے کہ شیوسینا کے اراکین اسمبلی کے ساتھ بی جے پی کے کچھ  اراکین اسمبلی بھی کابینہ میں  وزیر بننے کے متمنی ہیں۔  یہ امیدوار اس بات پر خوش تھے کہ جولائی میں کابینہ میں توسیع کی جائے گی لیکن۲؍ جولائی کو ہونے والی تقریب حلف برداری نے ان کی خوشی کو خاک میں ملا دیا کیوں کہ اجیت پوار کی بغاوت اور پھر ان کا حکمراں محاذ میں شامل ہونا بی جے پی اور شیو سینا اراکین کے لئے نقصان کا سبب بن گیا۔ شیو سینا کے ممبران اسمبلی مانسون اجلاس سے پہلے ہی کابینہ کی توسیع کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی دوران بی جے پی میں وزیر بننے کے متمنی اراکین بھی بے چین ہیں لیکن ان سے دیویندر فرنویس  نے صاف کہہ دیا ہے کہ جو ہو رہا ہے وہ بی جے پی  اعلیٰ کمان کی ہدایت پر ہو رہا ہے اس لئے سبھی کو اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے اور فی الحال خاموشی کے ساتھ صبر کرنا چاہئے۔گزشتہ رات کی میٹنگ کے تعلق سے یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ میٹنگ میں ۱۷؍ جولائی سے شروع ہونے والی ۳؍ ہفتے کے مانسون اجلاس حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا کیوں کہ اپوزیشن اس مرتبہ کیل کانٹوں سے لیس ہے۔ 

 ذرائع کے مطابق قلمدانوں کی تقسیم میں اس لئے بھی تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ اجیت پوار گروپ  کا اصرار ہے کہ کچھ اہم وزارتیں مثلاً خزانہ، داخلہ ، ہاؤسنگ   اور اقلیتی امور  این سی پی کو دی جائے جبکہ شندے خیمے کے اراکین اسمبلی اجیت پوار کو خاص طورپر وزارت مالیات کا قلمدان دینے کے شدید خلاف ہیں۔ ان کا اعتراض ہے کہ انہوںنے مہاوکاس اگھاڑی حکومت سے  اسی لئے علاحدگی اختیار کی تھی کیونکہ  اجیت پوار نے انہیں درکار فنڈ نہیں دےرہے تھے  اور اب و ہ نہیں چاہتے ہیں کہ انہیں دوبارہ  انہی پریشانیوں سے گزرنا پڑے۔

 قلمدانوں کی تقسیم میں تاخیر کے تعلق سے جب چھگن بھجبل سے استفسار کیاگیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ ۳؍ پارٹیوں کی حکومت کی تشکیل    ہوئی ہے اس لئے تاخیر ہور ہی ہے۔


Share: